خیبر پختونخوا میں ٹرانسجینڈر کمیونٹی کو قومی دھارے میں شامل کرنے کے حکومتی وعدے بالآخر سرکاری فائلوں سے نکل کر بھرتیوں کے اشتہارات تک پہنچ گئے ہیں۔ ضلع چارسدہ میں محکمہ تعلیم کی جانب سے چوکیداروں کی بھرتی کا حالیہ اشتہار اس وقت بحث کا مرکز بنا ہو ہے، جہاں پہلی بار سابقہ دورِ حکومت کی ایک اہم پالیسی پر عملدرآمد کرتے ہوئے خواجہ سرا کمیونٹی کے لیے مخصوص کوٹہ مختص کیا گیا ہے۔سابق وزیراعلیٰ علی امین گنڈاپور نے اپنے دورِ اقتدار میں ’خیبر پختونخوا سول سرونٹس رولز‘ میں ایک ترمیم کروائی تھی، جس کے تحت گریڈ 15 اور اس سے نیچے کی تمام سرکاری ملازمتوں میں خواجہ سراؤں کے لیے 0.5 فیصد کوٹہ مختص کیا گیا۔ اسی پالیسی کے تسلسل میں اب محکمہ تعلیم چارسدہ نے چوکیدار کی 38 آسامیوں میں سے ایک نشست خواجہ سرا کمیونٹی کے لیے مخصوص کی ہے۔ اگرچہ اس اقدام کو کمیونٹی کی سطح پر سراہا جا رہا ہے، لیکن عملی میدان میں حائل پیچیدگیاں اس فیصلے کے ثمرات کو محدود کرتی دکھائی دے رہی ہیں۔"ایکس کارڈ کی شرط"اس کوٹے کے تحت بھرتی کے لیے سب سے بڑی شرط نادرا کا وہ شناختی کارڈ ہونا لازم ہے جس میں جنس کے خانے می "ایکس" درج ہو ۔ خواجہ سرا کمیونٹی خیبرپختونخوا کی صدر فرزانہ ریاض اس شرط کو ایک تکنیکی رکاوٹ قرار دیتی ہیں۔ ٹڑانسجینڈرز کا کہنا ہے یہ شرط دراصل نوکری نہ دینے کا ایک بہانہ معلوم ہوتی ہے۔ یہاں تو اکثریت کے پاس قومی شناختی کارڈ تک نہیں، وہ ایکس کارڈ کی شرط کیسے پوری کریں گے؟ کمیونٹی کے تحفظات صرف کارڈ کے حصول تک محدود نہیں بلکہ وراثت جیسے معاملات سے بھی جڑے ہیں۔ ان کا ماننا ہے کہ ایکس کارڈ بنوانے کی صورت میں انہیں وراثت میں لڑکی کے برابر حصہ ملے گا، جس کے لیے بہت سے خواجہ سرا تیار نہیں ہیں۔چارسدہ کے محکمہ تعلیم میں خواجہ سرا کو بطور چوکیدار تعینات کرنے کا فیصلہ جتنا بڑا ہے اس کا سماجی ردِعمل اتنا ہی پیچیدہ ہے۔سوال یہ ہے کہ جو طبقہ خود گلیوں میں ہر وقت ہراسانی اور عدم تحفظ کا شکار رہتا ہے، کیا یہ معاشرہ سے سکول اور بچوں کی حفاظت کی ذمہ داری دینے پر آمادہ ہوگا؟
پشاور پریس کلب کے سامنے وادی تیراہ کے متاثرین نے احتجاج کیا اور مطالبہ کیا کہ تیراہ میں عوامی املاک پر قبضے اور جنگلات کی کٹائی فوری بند کی جائے۔ مظاہرین نے وفاقی اور صوبائی حکومتوں سے اپنے علاقوں میں باعزت واپسی یقینی بنانے کا مطالبہ بھی کیا۔
متاثرین کے مطابق جنوری کے آخر تک 12 ہزار سے زائد خاندانوں کی رجسٹریشن مکمل ہو چکی ہے، تاہم اعلان کردہ امداد صرف 20 فیصد بااثر افراد تک پہنچی ہے جن کے پاس سیاسی سفارش موجود ہے۔
متاثرہ شہری، حیات شاہ کا کہنا تھا کہ ان کا 70 لاکھ روپے مالیت کا گھر تباہ کر دیا گیا اور دروازے تک لوٹ لیے گئے، مگر ابھی تک کوئی معاوضہ نہیں ملا۔ ملک بصیر سمیت دیگر متاثرین کا شکوہ ہے کہ منتخب نمائندے مسائل حل کرنے کے بجائے احتجاج میں شریک ہو کر اپنی ذمہ داری سے بچ رہے ہیں۔
خیبر پختونخوا حکومت اس نقل مکانی کو فوجی آپریشن کا نتیجہ قرار دیتی ہے جبکہ وفاقی حکومت اسے مقامی مذاکرات کا ثمر بتا کر ذمہ داری صوبے پر ڈال رہی ہے۔ اس اختلاف کے نتیجے میں ہزاروں خاندان بے یار و مددگار پڑے ہیں۔