سوشل میڈیا کے بڑھتے ہوئے اثرات نے سرحدی شہر چمن میں روایتی صحافت کو شدید متاثر کیا ہے، جہاں کبھی اخبارات کی بھرپور طلب ہوا کرتی تھی، اب وہ تیزی سے کم ہو رہی ہے۔ گزشتہ دو دہائیوں سے اخبار فروشی کے شعبے سے وابستہ جعفر خان کے مطابق ماضی میں روزانہ صبح سویرے کوئٹہ سے چمن تک گاڑی کے ذریعے ڈھائی ہزار سے زائد اخبارات پہنچائے جاتے تھے، جن کی تقسیم کے لیے کئی افراد کام کرتے تھے۔ چمن کے اخبارفروشوں کے مطابق اس وقت شہری، خصوصاً بزرگ، باقاعدگی سے اخبارات کا مطالعہ کرتے تھے۔ اخبارات گھروں تک موٹر سائیکل کے ذریعے پہنچائے جاتے تھے اور اگر کسی دن تاخیر یا ناغہ ہو جاتا تو شہریوں میں بے چینی پیدا ہو جاتی تھی۔ تاہم اب صورتحال یکسر تبدیل ہو چکی ہے۔ سوشل میڈیا کے بڑھتے ہوئے استعمال کے باعث اخبارات کی طلب میں نمایاں کمی آئی ہے، جس کے نتیجے میں نہ صرف یہ پیشہ متاثر ہوا بلکہ اس سے وابستہ متعدد افراد بھی بے روزگار ہو گئے ہیں۔
اخبار فروشوں کے مطابق اب چند سو اخبارات ہی چمن پہنچتے ہیں اور یہ زیادہ تر انہی افراد تک محدود ہیں جو آج بھی روایتی انداز میں مطالعے کو ترجیح دیتے ہیں۔
1988 میں کراچی سے کوئٹہ جانے والی پرواز کو ہائی جیک کرنے کی کوشش کرنے والا رہا ہوگیا ہے۔ کیا آپ نے کوئٹہ کے لیاقت پارک میں کھڑا جہاز دیکھا ہے؟ اکثر لوگ سمجھتے ہیں کہ یہ وہی جہاز ہے جسے 1988 میں ہائی جیک کیا گیا تھا لیکن حقیقت مختلف ہے۔
ضلع شیرانی کے پہاڑی جنگلات میں گزشتہ روز لگی آگ نے بڑے رقبے کو اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے۔ ڈسٹرکٹ فاریسٹ آفیسر کے مطابق آگ سے زیتون، چلغوزے اور چیڑ کے درختوں، جڑی بوٹیوں کو نقصان پہنچا ہےڈپٹی کمشنر حضرت ولی کاکڑ نے بتایا کہ آگ لگنے کی وجوہات جاننے کے لیے تحقیقات جاری ہیں۔ایک ہفتہ قبل بھی ضلع شیرانی کے قریب پہاڑی علاقے دہانہ سر کے جنگلات میں آگ بھڑک اٹھی تھی، جو خیبر پختونخوا کی حدود میں شامل ہے اور پہاڑی راستے دشوار گزار ہونے کی وجہ سے ریسکیو ٹیموں کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ضلع شیرانی میں جنگلات میں لگنے والی آگ کے متعدد واقعات ماضی میں بھی رپورٹ ہوتے رہے ہیں۔ 18 مئی 2022 کو چلغوزے کے وسیع جنگلات میں شدید آگ بھڑکی جس نے کئی کلومیٹر رقبے کو گھیر لیا اور تین افراد کی جان بھی گئی۔ اس کے بعد 22 سے 24 مئی 2022 تک آگ پر قابو پانے کے لیے خصوصی ٹاسک فورس تشکیل دی گئی اور ایرانی فائر فائٹر طیارے کی مدد سے کارروائی کی گئی۔ 31 اکتوبر 2024 کو ڈیرہ اسماعیل خان کے پہاڑی جنگلات میں لگنے والی آگ پھیل کر شیرانی کے جنگلات تک جا پہنچی، جس سے چیڑ اور چلغوزے کے درخت متاثر ہوئے اور مقامی و صوبائی اداروں کو بڑے پیمانے پر ریسکیو آپریشن کرنا پڑا۔ اسی طرح 11 جون 2025 کو شیرانی کے شِن گھڑ کے زیتون جنگلات میں آگ لگی۔
بلوچستان میں 23 ڈاکٹر معطل، 25 کو شوکاز ڈاکٹر ماہنور پر تیزاب حملے کے خلاف احتجاجاً سرکاری ہسپتالوں میں ایمرجنسی کے علاوہ تمام طبی خدمات بند کرنے والے ڈاکٹروں کے خلاف بلوچستان حکومت نے کارروائی کرتے ہوئے 23 ڈاکٹروں کو معطل، 25 کو شوکاز نوٹس جاری اور پانچ پوسٹ گریجویٹ ٹرینی ڈاکٹروں کی تربیتی رجسٹریشن معطل کر دی ہے۔حکومت بلوچستان کے محکمہ صحت کے مطابق مذکورہ ڈاکٹروں کے خلاف باضابطہ انکوائری کا بھی آغاز کر دیا گیا ہے۔ یہ کارروائی ڈاکٹر ماہنور پر تیزاب حملے کے اگلے روز صوبے بھر کے سرکاری ہسپتالوں میں شروع ہونے والی ہڑتال کے تناظر میں کی گئی، جس کے باعث ایمرجنسی سروسز کے علاوہ دیگر طبی خدمات تاحال معطل ہیں۔وزیراعلیٰ بلوچستان کے معاون خصوصی برائے میڈیا، شاہد رند نے ایک بیان میں کہا ہے کہ عدالتی احکامات کے مطابق انسانی جانوں اور صحت سے متعلق اداروں میں ہڑتال، کام کی بندش اور عوامی خدمات میں تعطل پیدا کرنا غیر قانونی عمل ہے اور اس کی کسی صورت اجازت نہیں دی جا سکتی۔انہوں نے کہا کہ محکمہ صحت نے قواعد و ضوابط کی خلاف ورزی، ہڑتال، خلافِ ضابطہ سرگرمیوں اور محکمہ جاتی نظم و ضبط کی پامالی کی بنیاد پر متعلقہ ڈاکٹروں کے خلاف کارروائی کی ہے۔شاہد رند نے خبردار کیا کہ لازمی سروسز سے غیر حاضر رہنے والے ملازمین کے خلاف قانون اور سروس رولز کے مطابق تادیبی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔چند روز قبل بلوچستان حکومت نے ہڑتال کرنے پر گریڈ 20 کی ایک پروفیسر سمیت 34 اساتذہ کو بھی جبری ریٹائر کر دیا تھا۔
بلوچستان میں رجسٹرڈ زرعی ٹیوب ویلوں کو گرڈ سے سولر پر منتقلی کا عمل لگ بھگ تکمیل کو پہنچ چکا ہے۔ یہ منصوبہ بلوچستان انرجی ڈیپارٹمنٹ نے کوئٹہ الیکٹرک سپلائی کمپنی (کیسکو) اور زمیندار ایکشن کمیٹی کے ساتھ مل کر انجام دیا ہے۔
وفاقی اور صوبائی حکومت نے 20 ماہ قبل ان 27 ہزار 437 رجسٹرڈ زرعی ٹیوب ویلز کی سولرائزیشن کا منصوبہ شروع کیا تھا جو کیسکو کے قانونی کنکشن پر چل رہے تھے۔ لگ بھگ 55 ارب روپے کے اس پروگرام کے لیے 70 فیصد رقم وفاقی اور 30 فیصد صوبائی حکومت نے دی۔
زرعی سولرائزیشن کا پلان سب سے پہلے وزارت توانائی (پاور ڈویژن) نے مارچ 2022ء میں گردشی قرضوں پر قابو پانے کے سلسلے میں ورلڈ بینک کو پیش کیا تھا۔ اس کے لیے مالی معاونت بھی مانگی تھی مگر عالمی ادارہ صرف پائلٹ پراجیکٹ اور تکنیکی تعاون پر ہی رضامند ہوا تھا۔
بعد ازاں حکومت نے یہ کام خود کرنے کا فیصلہ کیا۔ بلوچستان کو پہلی ترجیح بنایا گیا کیونکہ وہاں بلنگ اور وصولیوں کے درمیاں فرق زیادہ تھا۔ زرعی صارفین کو ناں صرف 23 ارب روپے سالانہ سبسڈی دینا پڑ رہی تھی بلکہ لوڈشیڈنگ، کم وولٹیج، غیر یقینی سپلائی اور بجلی چوری جیسے سنگین مسائل بھی درپیش تھے۔
جولائی 2024ء میں وفاق اور صوبائی حکومت کے درمیان معاملات طے پائے جس کے فوری بعد رجسٹرڈ ٹیوب ویلز کی سولرائزیشن کے لیے کاشت کاروں کو براہِ راست 20، 20 لاکھ روپے کی مرحلہ وار تقسیم کا کام شروع کر دیا گیا۔
اب پانچویں اور آخری مرحلے میں ایک ہزار 243 زرعی صارفین کو دو ارب 48 کروڑ 60 لاکھ روپے کے چیک جاری کیے جا چکے ہیں۔
حکومت بلوچستان کے مطابق تقریباً 27 ہزار زرعی صارفین کی سولر پر منتقلی کا عمل کامیابی سے مکمل ہونے کے قریب ہے۔ تاہم دعووں کے برعکس کیسکو اور محکمہ توانائی بلوچستان مطلوبہ نتائج حاصل کرنے میں پوری طرح کامیاب ہوتے دکھائی نہیں دیتے۔
حاجی عبدالواحد، قلعہ سیف اللہ کے علاقے مرغہ کبزئی کے کاشت کار ہیں۔ وہ 25 ایکڑ پر گندم، زیرہ، پیاز اور موسمی سبزیاں کاشت کرتے ہیں جس کی آبپاشی کے لیے انہوں نے بجلی پر چلنے والا ٹیوب ویل لگا رکھا تھا۔
وہ بتاتے ہیں کہ روزانہ 20/ 21 گھنٹے لوڈ شیڈنگ ہوتی تھی، بعض اوقات تو کئی کئی دن بجلی غائب رہتی تھی۔ نتیجتاً ایک تو فصل کو نقصان پہنچتا تھا اور اوپر سے ماہانہ 60 سے 80 ہزار روپے بل بھی دینا پڑتا تھا۔ اب حکومتی پروگرام کے تحت رقم ملنے کے بعد انہوں نے اپنے ٹیوب ویل کو سولر پر منتقل کر لیا ہے۔
"میری بھاری بلوں سے ہمیشہ کے لیے جان چھوٹ گئی۔ روزانہ لگ بھگ آٹھ گھنٹے بلاتعطل بجلی بھی میسر ہوتی ہے البتہ سردیوں اور گرد آلود موسم میں اس کی کارکردگی نسبتاً کم ہو جاتی ہے۔ تاہم پانی کی کمی کا خوف ختم ہو گیا ہے۔"
کیسکو ترجمان افضل بلوچ بتاتے ہیں کہ بلوچستان میں بجلی کی مجموعی طلب لگ بھگ ایک ہزار200 میگاواٹ بنتی ہے مگر قومی گرڈ سے اوسطاً 600 سے 650 میگاواٹ فراہم کی جاتی رہی ہے۔ دستیاب بجلی کا زیادہ تر حصہ یعنی تقریباً 350 میگاواٹ زرعی صارفین استعمال کرتے تھے۔
انہوں نے دعویٰ کیا کہ سولرائزیشن اور زرعی ٹیوب ویلوں کے گرڈ سے منقطع ہونے کے بعد کیسکو کے لوڈ میں 200 سے 250 میگاواٹ کی کمی ریکارڈ کی گئی ہے۔ زرعی صارفین کو دی جانے والی سبسڈی کی مد میں اربوں روپے کی بچت کے ساتھ بلوں کی عدم ادائیگی میں بھی نمایاں کمی آ رہی ہے۔
ان کے بقول گرڈ پر دباؤ کم ہونے کے نتیجے میں نظام کی کارکردگی اور استحکام میں بہتری آئی ہے جس کا براہِ راست فائدہ گھریلو صارفین کو ہو رہا ہے۔ ٹرپنگ، فالٹس اور لوڈشیڈنگ میں بھی پہلے کے مقابلے میں کمی آ رہی ہے۔
پشین کے گاؤں بٹہ زئی کے کاشت کار حاجی رحمت اللہ نے طویل عرصہ قبل مالی معاونت کے لیے ٹیوب ویل سولرائزیشن پروگرام میں درخواست دی تھی۔ انہیں شکایت ہے کہ آج تک نہ تو انہیں رقم ملی اور نہ ہی کوئی ٹیم ان کے ٹیوب ویل کا معائنہ کرنے آئی۔
کیسکو ترجمان کے مطابق صوبے میں اب تک 26 ہزار 921 زرعی صارفین کو مجموعی طور پر 53 ارب 78 کروڑ 60 لاکھ روپے جاری کیے جا چکے ہیں جبکہ 516 کیسز تاحال زیر التوا ہیں۔
کاشت کار تنظیم 'زمیندار ایکشن کمیٹی' کے رہنما خالد حسین باٹھ تصدیق کرتے ہیں کہ کچھ کسانوں کو بروقت ادائیگی نہیں ہو پائی۔ اس کی وجہ ڈیٹا انٹری میں غلطیاں، بینک میں نامکمل یا غلط معلومات کا اندراج اور فزیکل معائنہ ٹیموں کے کام کی تاخیر ہے۔
"انتظامی مسائل کے ذمہ دار کسان نہیں ہیں مگر پشین جیسے پانی کی قلت والے علاقوں میں اس کا براہِ راست اثر ان کی فصلوں پر پڑ رہا ہے۔"
وہ کہتے ہیں کہ کئی کسانوں کو شکایات ہے کہ ان کے کیس نمبر، شناختی کارڈ یا بینک اکاؤنٹ کی تفصیلات وغیرہ میں معمولی غلطی پر بھی رقم روک دی گئی۔ ان رکاوٹوں کو ترجیحی بنیادوں پر دور کیا جانا ضروری ہے۔
کاشت کار عبدالواحد نے سولر ٹیوب ویل مالکان کو درپیش ایک اور مسئلے کی نشاندہی کی جس کا حال ہی میں انہیں سامنا کرنا پڑا۔ وہ کہتے ہیں کہ یہاں انورٹر یا سولر سسٹم کی مرمت کرنے والا کوئی نہیں۔ ایک بار ان کا سسٹم گڑبڑ کرنے لگا تو انہیں کوئٹہ سے پہلے کوئی اچھا سولر ٹیکنیشن دستیاب ہی نہیں ہوا۔
اگر حکومت کچھ لوگوں کو سولر سسٹمز کی تربیت فراہم کر دے تو کسانوں کی مشکل حل ہو جائے گی۔
ضلع سبی میں لہڑی کے کاشت کار محمد اسلم بھی کچھ ماہ پہلے حکومتی رقم وصول کر چکے ہیں مگر انہوں نے تاحال اپنے ٹیوب ویل کو سولر پر منتقل نہیں کیا۔ وہ بدستور گرڈ کی بجلی استعمال کر رہے ہیں اور بھاری بل ادا کیے جا رہے ہیں۔
وہ شکوہ کرتے ہیں کہ حکومت نے سولر پینلز، انورٹر و دیگر سامان کی خریداری کے لیے کسی قسم کی تکنیکی معاونت کی نہ ہی سولر سپلائرز کی کوئی فہرست جاری کی ہے۔ ڈر ہے کہیں غیرمعیاری سولر سسٹم خرید لیا تو سرمایہ ضائع ہو جائے گا۔
تاہم محکمہ توانائی کا کہنا ہے کہ نقد رقم کی ادائیگی کا طریقہ کار کسانوں کے فائدہ کے لیے اپنایا گیا۔ اس سے وہ اپنی زمین اور پانی کی ضرورت کے مطابق مارکیٹ میں دستیاب بہتر سولر سسٹم کا انتخاب کر سکتے ہیں۔
اب محمد اسلم کو یہ دھڑکا بھی لگا ہوا ہے کہ کسی دن اچانک کیسکو نے بجلی کا کنکشن کاٹ دیا تو انہیں عارضی طور پر ڈیزل انجن چلانا پڑے گا جس سے خرچ مزید بڑھ جائے گا۔
واضح رہے ٹیوب ویل سولرائزیشن منصوبے کے بنیادی مقاصد میں کیسکو پر نقصانات کا بوجھ کم کرنا، بجلی چوری کی روک تھام، بل وصولیوں کو بہتر بنانا اور کسانوں کو دن میں بلاتعطل بجلی کی سہولت فراہم کرنا شامل تھا۔
ان مقاصد کے پیش نظر وفاق اور صوبائی حکومت کے درمیان معاہدے میں طے پایا تھا کہ سولرائزیشن کی رقم جاری ہوتے ہی متعلقہ ٹیوب ویل کا گرڈ کنکشن کاٹ دے گا اور کسان ٹرانسفارمر و دیگر الیکٹریکل آلات کیسکو کے حوالے کر دیں گے۔
"اگر اس فیڈر پر گھریلو صارفین نہیں ہیں تو یہاں سے ہائی ٹرانسمشن پولز بھی اکھاڑ لیے جائیں گے تاکہ دوبارہ غیرقانونی کنکشن لگانے یا بجلی چوری کا احتمال نہ رہے۔"
کیسکو نے کسانوں میں رقوم کی تقسیم کے ساتھ ہی زرعی کنکشنز کو گرڈ سے منقطع کرنے کا عمل شروع کر دیا تھا۔ تاہم ترجمان اعتراف کرتے ہیں کہ اب پانچویں مرحلے کی تکمیل اور 26 ہزار 921 کاشت کاروں کو ادائیگی کے بعد وسط مارچ تک صرف ساڑھے 14 ہزار کے قریب (53 فیصد) ٹیوب ویل کنکشن ہی کاٹے جا سکے ہیں۔
اگرچہ کیسکو پر 250 میگاواٹ تک لوڈ ، لائن لاسز کے ساتھ بجلی چوری کی شرح اور غیر قانونی کنکشنز کے امکانات کم ہونے کے دعوے کر رہے ہیں لیکن اب بھی 43 فیصد قانونی زرعی کنکشنز ہٹانے اور برقی تنصیبات اتارنے کا کام باقی ہے۔
ترجمان کے مطابق اس منصوبے کے تحت زمینداروں پر لازم ہے کہ وہ اپنے زرعی ٹرانسفارمرز وغیرہ کیسکو کے حوالے کریں مگر اس سلسلے میں زرعی صارفین مکمل تعاون نہیں کر رہے۔
"اس مقصد کے لیے ہم نے آٹھ ہزار 398 زرعی صارفین کے خلاف قانونی کارروائی کے لیے ضلعی انتظامیہ کو تحریری مراسلے ارسال کر دیے ہیں۔"
واضح رہے صوبائی حکومت سولرائزیشن منصوبے کی شرائط پر مکمل عملدرآمد کرانے کے لیے'بلوچستان زرعی سولرائزیشن اینڈ انسداد بجلی چوری ایکٹ 2025ء' کے نام سے ایک قانون بھی منظور کر چکی ہے۔
اس قانون کے تحت سولر کی سہولت حاصل کرنے والے زرعی صارف کے لیے گرڈ کنکشن ممنوع ہو گا۔ اگر کوئی ایسا صارف بجلی چوری کا مرتکب پایا گیا تو اسے کم از کم 20 لاکھ روپے جرمانہ یا ایک سال تک قید یا دونوں سزائیں دی جا سکتی ہیں۔
"بجلی کے آلات کی ضبطی کے علاوہ حلف نامے کی خلاف ورزی (کریمنل بریچ آف ٹرسٹ) پر تین سال تک قید ہو سکتی ہے۔"
ایگرکلچر سنسس 2024ء بتاتا ہے کہ بلوچستان میں کل زیرکاشت رقبہ ساڑھے 77 لاکھ ایکڑ ہے جس میں 23لاکھ 23 ہزار ایکڑ نہری نظام اور باقی 54 لاکھ 27 ہزار ایکڑ رقبہ ٹیوب ویلز، برساتی بندات، رودکوہیوں یا پمپ وغیرہ کے ذریعے کاشت ہوتا ہے۔
صوبے میں 24 لاکھ 70 ہزار ایکڑ اراضی صرف ٹیوب ویلز سے سیرآب کی جاتی ہے جبکہ نہری رقبے میں سے لگ بھگ چار لاکھ ایکڑ رقبے کو بھی پانی کم میسر ہونے کے باعث ٹیوب ویلز کی ضرورت پڑتی ہے۔
بلوچستان حکومت کے مطابق صوبے میں 2024ء میں آبپاشی کے لیے مجموعی طور پر 77 ہزار 89 ٹیوب ویل موجود تھے۔ ان میں سے 27 ہزار 437 ٹیوب ویل کوئٹہ الیکٹرک سپلائی کمپنی (کیسکو) کے قانونی کنکشن پر چل رہے تھے جو محکمہ زراعت میں رجسٹرڈ تھے جبکہ 10 ہزار 263 غیرقانونی تھے۔
اس کا مطلب یہ ہے کہ ناں صرف یہ غیر قانونی کنکشن والے ٹیوب ویلز اب بھی موجود ہیں بلکہ باقی 39 ہزار سے زائد ٹیوب ویل بھی ڈیزل، ٹریکٹر وغیرہ استعمال کر رہے ہیں۔ ممکن ہے بعض کسانوں نے کچھ ٹیوب ویل ذاتی خرچ پر سولر پر منتقل کر لیے ہوں مگر بیشتر اتنا سرمایہ لگانے کی استطاعت نہیں رکھتے۔