کوثر پروین پاکستان میں چیچک کی آخری مریض تھی: چیچک ایک جان لیوا اور ایک سے دوسرے کو لگنے والا مرض تھا جو ہر سال ہزاروں جانیں لے لیتا تھا۔ 1960ء کی دہائی میں پاکستان نے چیچک کے خاتمے کے لیے ویکسین کی مہم تیز کی تو مریض کم ہوتے چلے گئے اور پھر ڈھونڈنے مشکل ہو گئے۔ 1970ء میں اخبارات میں اشتہار دیئے گئے کہ جو شخص چیچک کے کسی مریض کی نشاندہی کرے گا اسے نقد انعام دیا جائے گا۔ اکتوبر 1974ء میں کوثر پروین کی نشاندہی ہوئی، اس کا علاج کیا گیا اور اسے علیحدہ رکھا گیا تاکہ یہ مرض اس سے کسی اور کو نہ لگ سکے۔ اس کے بعد چیچک کا کوئی مریض کبھی رپورٹ نہیں ہوا
1976ء میں عالمی ادارہ صحت نے جانچ پڑتال کے بعد پاکستان کو چیچک سے پاک ملک قرار دے دیا اور 1980ء میں پوری دنیا سے اس موذی مرض کا خاتمہ ہو گیا