2020 میں پنجاب حکومت نے راوی اربن ڈویلپمنٹ اتھارٹی (روڈا) قائم کی اور اسے قانونی تحفظ دیا۔ اس کے تحت حکومت اور سرمایہ داروں نے دریا کے کنارے کی زمینیں حاصل کرلیں۔
روڈا کے قیام کے بعد دریا کے 45 کلومیٹر طویل کنارے پر نئی ہاؤسنگ سکیمیں بنائی گئیں۔ ان میں روڈا کی اپنی سکیموں کے ساتھ ساتھ پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کے تحت رہائشی منصوبے بھی شامل تھے۔ مثال کے طور پر 2024 میں پارک ویو سٹی کو روڈا کی جانب سے 11 ہزار کنال زمین دی گئی۔ اتھارٹی نے الرحمن گارڈن اور نیو میٹرو سٹی سمیت کئی دیگر سکیموں کے ساتھ بھی اسی طرح کے معاہدے کیے۔
لیکن اس سال راوی اپنی پوری طاقت کے ساتھ لوٹا ہے اور ایسی تمام سکیمیں شدید خطرے میں ہیں جو دریا کے بہت قریب بنائی گئی ہیں ۔ یہ صورتحال حکمرانوں کو یاد دلا رہی ہے کہ دریا کبھی نہیں مرتا۔
سندھ توانائی کے ایک تضاد کا شکار ہے—ایک طرف جھمپیر اور گھارو میں دنیا کے بہترین ہوا کے وسائل موجود ہیں، جبکہ دوسری طرف تھر کے کوئلے کو توانائی کے حل کے طور پر پیش کیا جا رہا ہے۔ مگر اس “ترقی” نے تھری عوام کو شدید نقصان پہنچایا ہے: کنویں خشک ہو گئے، زمین بنجر ہو رہی ہے، درخت ختم ہو رہے ہیں اور فضا میں راکھ نے زندگی کو مشکل بنا دیا ہے۔ مقامی لوگ اپنی نسلوں کے نقصان کے خلاف احتجاج کر رہے ہیں۔
"روٹی کو ہاتھ نہ لگاؤ" — یہ کہانی ان لوگوں کی ہے جو برابری، عزت اور اپنے بنیادی انسانی حقوق کے لیے جدوجہد کرتے ہوئے چھوت چھات کے تصور کو دوٹوک انداز میں مسترد کر رہے ہیں۔