اب تو آئی ایم ایف نے بھی مان لیا ہے کہ پاکستان میں چینی کا شعبہ امیر اور طاقتور افراد کے فائدے کے لیے ہی چلایا جا رہا ہے۔ عالمی مالیاتی ادارے نے پاکستان میں کرپشن کے حوالے سے اپنی حالیہ رپورٹ میں چینی کے شعبے کو اس بات کی ایک مثال کے طور پر پیش کیا ہے کہ اشرافیہ اور ریاست کیسے باہمی گٹھ جوڑ سے عوامی وسائل پر قبضہ کر کے مالی فائدے حاصل کرتے ہیں۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اکثر شوگر ملیں سیاسی رہنماؤں اور قانون سازوں کی ملکیت ہیں جو اپنے مفاد میں پالیسیاں بنوا لیتے ہیں۔ معاملہ گنے کی مجوزہ قیمت طے کرنے کا ہو، درآمد پر ٹیکس لگانے کا ہو یا چینی برآمد کرنے کا ہر فیصلہ مل مالکان کے مفاد میں کیا جاتا ہے۔ رپورٹ نے 2018-19 کی مثال دی جب حکومت نے چینی کی بڑی مقدار میں ایکسپورٹ کی نہ صرف اجازت دی بلکہ اس پر سبسڈی بھی دی جس سے ملک میں چینی کی قلت ہوگئی اور قیمتوں میں اضافہ۔
ایک تحقیقی رپورٹ نے واضح بتایا کہ مصنوعی قلت پیدا کر کے قیمت بڑھائی جاتی ہے لیکن شواہد کے باوجود بس چھوٹے موٹے کارندوں کی گرفتاری کا ڈرامہ رچایا جاتا ہے۔
اوکاڑا اور پاکپتن سب سے آگے، لیکن قصور، ساہیوال، وہاڑی اور خانیوال بھی کم نہیں۔ پنجاب میں آلو کی کاشت مسلسل بڑھ رہی ہے۔ کیا آپ جانتے ہیں اس کی وجہ کیا ہو سکتی ہے؟
پنجاب میں آلو کی قیمتیں اس وقت ریکارڈ حد تک گر چکی ہیں۔ منڈیوں میں سٹور کا آلو صرف 5 سے 6 روپے فی کلو میں فروخت ہورہا ہے، جبکہ شہری بازاروں میں یہی آلو 20 روپے فی کلو تک پہنچ جاتا ہے۔ ادھر نئے آلو کی قیمت بھی کم ہو کر 50 روپے فی کلو رہ گئی ہے۔ قیمتوں میں اس شدید کمی کی سب سے بڑی وجہ افغانستان کے ساتھ تجارت کا بند ہونا ہے۔ افغانستان کئی برسوں سے پاکستانی آلو کی سب سے بڑی منڈی رہا ہے۔ گزشتہ پانچ سال میں پاکستان کی آلو برآمدات تقریباً دوگنا بڑھ چکی تھیں، جن کا زیادہ تر حصہ افغانستان جاتا تھا۔ بدقسمتی سے اس سال کسانوں نے زیادہ منافع کی امید پر آلو کی کاشت میں بھی ریکارڈ اضافہ کیا۔ صرف پنجاب میں رواں سال 12 لاکھ ایکڑ سے زائد رقبے پر آلو کاشت کیا گیا۔ دوسری طرف پچھلی فصل اور بڑی مقدار میں آلو اب بھی کولڈ اسٹوریج میں پڑا ہے، جس نے مارکیٹ میں سپلائی بڑھا کر قیمتوں کو مزید نیچے دھکیل دیا ہے۔
پنجاب میں زراعت آج بھی81 لاکھ سے زائد خاندانوں کے روزگار کا سہارا ہے: حال ہی میں ہونے والی زرعی شماری کے مطابق صوبے میں41 فیصد خاندان اپنی گزر بسر کے لیے زراعت پر انحصار کرتے ہیں۔ لیکن یہ انحصار ہر جگہ ایک جیسا نہیں جہاں دیہی آبادی زیادہ ہے وہاں لوگ زیادہ تر زراعت پیشہ ہیں اور جہاں شہری آبادی غالب ہے وہاں یہ تعداد کافی کم ہے۔ اکثریت دیہی آبادی والے اضلاع بھکر، خوشاب اور ڈیرہ غازی خان میں 70 فیصد سے زائد خاندان زراعت پیشہ ہیں جبکہ لاہور، راولپنڈی، گوجرانوالہ اور قصور جیسے صنتعی اور اکثریتی شہری آبادی والے اضلاع میں یہ شرح 30 فیصد سے بھی کم ہے۔
پنجاب سے گندم کی بین الصوبائی نقل و حرکت میں رکاوٹ کے باعث دیگر صوبوں میں آٹے کی قیمتوں میں تیزی سے اضافہ ہورہا ہے جس سے سیاسی سطح پر صوبوں کے درمیان کشیدگی کافی بڑھ گئی ہے۔ خیبر پختونخوا حکومت اس اقدام کو آئین کے آرٹیکل 151 کی خلاف ورزی قرار دے رہی ہے، جو صوبوں کے درمیان آزادانہ تجارت کی ضمانت دیتا ہے۔ بلوچستان اور سندھ کی حکومتوں نے بھی الزام عائد کیا ہے کہ پنجاب نے گندم کے بیج کی سپلائی روک دی ہے، جس سے رواں سیزن کی بوائی متاثر ہونے اور پیداوار کم ہونے کا خدشہ ہے۔ اس سال پاکستان نے اپنی ضرورت سے 5 فیصد (15 لاکھ ٹن) کم گندم پیدا کی ہے۔ پنجاب واحد صوبہ ہے جس نے اپنی ضرورت سے زائد گندم اگائی۔ یہ گراف دکھاتا ہے کہ اس سال کس صوبے نے اپنی ضرورت کا کتنے فیصد گندم خود پیدا کی اور اسے کتنا انحصار پنجاب پر کرنا پڑ رہا ہے۔